
اکسائی چن میں چین کی انتظامی تبدیلیاں اور ہندوستان کو درپیش طویل المدتی چیلنجز
26 مارچ کو چین کی ریاستی کونسل نے شنچیانگ میں سین لِنگ (Cenling) کے نام سے ایک نئی کاؤنٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ چینی سیاسی و انتظامی نظام میں کاؤنٹی، ضلع درجے کی ایک انتظامی اکائی کے برابر ہوتی ہے۔ یہ نئی کاؤنٹی کاشغر پریفیکچر کے تحت اکسائی چن کے مغربی حصے میں واقع کارگیلک کاؤنٹی (چینی زبان میں اسے یے چھنگ کاؤنٹی کہا جاتا ہے) کی انتظامی ازسرِنو تشکیل کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔
ہندوستان کی وزارت خارجہ نے میڈیا کے سوالات کا جواب دینے میں دو ہفتوں سے زیادہ وقت لیا اور پھر کہا کہ وہ " سرزمین ہند کے کسی بھی مقام کو چین کی جانب سے فرضی نام دینے کی ہر مذموم کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتی ہے۔" نئی دہلی کا یہ سرکاری بیان جنوری 2025 میں اس کے ردِعمل کے مقابلے میں قدرے زیادہ سخت تھا ۔ وہ بیان دسمبر 2024 میں اکسائی چن کے مشرقی حصے میں ہوتان پریفیکچر کے تحت ہی آن (He'an) اور ہے کانگ (Hekang) کے نام سے دو نئی کاؤنٹیوں کے قیام کے بعد سامنے آیا تھا۔
تاہم وزارت خارجہ کی جانب سے اس طرح کی تاخیر اور مختصر ردِعمل اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ اکسائی چن اور اروناچل پردیش سے متصل سرحدی علاقوں میں چین کی انتظامی تبدیلیاں نیز خود اروناچل پردیش میں مقامات کے نام تبدیل کرنے کے اقدامات ہندوستان کے لیے اہم مضمرات رکھتے ہیں۔ ایک طرف مقامات کے نام تبدیل کرنے کا مقصد ان علاقوں کو اپنی سرزمین کے طور پر پیش کرنا ہے وہیں نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنے یا موجودہ اکائیوں کی حیثیت اور درجے میں تبدیلی کا مقصد، دیگر مقاصد کے ساتھ ساتھ، علاقے کے خانہ بدوش باشندوں اور چین کے اندرونی صوبوں سے آنے والے ہان باشندوں کو مستقل طور پر وہاں آباد کرنا بھی ہے۔
سال2020 میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر طاقت کے استعمال کے لیے چین کی آمادگی اور اس کے اس طرح کے بظاہر انتظامی اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ چین ہندوستان کے ساتھ سرحدی تنازع پر مسلسل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور مختلف حربوں سے صورتِ حال کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کے مقاصد
سین لِنگ کاؤنٹی کے قیام کا باضابطہ اعلان دراصل ایک سال سے جاری ان تیاریوں کا نتیجہ ہے جن کے تحت نئی کاؤنٹی کے صدر مقام شِن ہوا ٹاؤن (Xinhua Town) سمیت نئے دیہات اور قصبے قائم کیے گئے۔ 2020 کی تازہ مردم شماری کے مطابق اس نئی کاؤنٹی کی آبادی تقریباً چھ ہزار 600 نفوس پر مشتمل ہے جس کی معیشت کا بنیادی انحصار زراعت اور مویشی بانی پر ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہاں ہان آبادی میں بتدریج اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ شنچیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کور کے زیرِ انتظام زرعی فارم ہیں۔ یہ ایک نیم فوجی تنظیم بھی ہے اور سرکاری ملکیت کا کاروباری ادارہ بھی۔
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح چینی حکام بھی مختلف وجوہات کی بنا پر دیہی انتظامی اکائیوں کی حیثیت تبدیل کرتے اور نئی انتظامی اکائیاں قائم کرتے ہیں۔ ان اقدامات کے مقاصد میں انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور کاؤنٹی سطح کی انتظامیہ کو محصولات اور اراضی سے متعلق معاملات میں زیادہ اختیارات دینا بھی شامل ہے۔
تاہم کم آبادی والے اور سیاسی طور پر غیر مستحکم علاقوں مثلاً نسلی اقلیتوں پر مشتمل صوبوں میں جہاں آبادی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور صنعت کاری بھی محدود ہے، انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے چین کے طویل المدتی مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔
سین لِنگ اور نسلی اقلیتوں کے دیگر علاقوں میں چین کا مقصد صنعتی ترقی یا انتظامی کارکردگی میں اضافہ کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف وہاں ریاستی موجودگی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ چین کے اندرونی صوبوں سے ہان آبادی کی منتقلی کی حوصلہ افزائی اور خانہ بدوش لوگوں کو مستقل سکونت اختیار کرنے پر مجبور کر کے چینی حکام نسلی اقلیتوں کی بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، خصوصاً کن لون پہاڑوں کے جنوب میں واقع ان علاقوں میں جن میں اکسائی چن بھی شامل ہے اور جہاں ایغور نسلی اقلیت اکثریت میں ہے۔ اسی نوعیت کے مقاصد تبت خود مختار خطے (TAR) کے مشرقی حصے میں بھی کارفرما ہیں جہاں 2023 میں دو دیہی کاؤنٹیوں—لہوکا کی تسونا (Tsona) جو ہندوستان کے توانگ ضلع کے بالمقابل واقع ہے اور نینگچی کی مین لِنگ (Menling) جو اروناچل پردیش کے سیانگ ضلع کے بالمقابل واقع ہے—کو کاؤنٹی شہروں کا درجہ دے دیا گیا۔
ہندوستان کے لیے مضمرات
لائن آف ایکچول کنٹرول (LAC) کے ساتھ قائم کی جانے والی نئی انتظامی اکائیوں، جن میں شیاوکانگ سُن (xiaokang cun) یعنی نئے آباد کیے گئے یا ازسرِ نو ترقی دیے گئے دیہات بھی شامل ہیں، میں خانہ بدوش آبادی کو جبراً مستقل سکونت اختیار کرانے اور چین کے دوسرے علاقوں سے ہان باشندوں کی منتقلی کے ہندوستان کے لیے کئی طویل المدتی مضمرات ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ خانہ بدوش لوگوں کو زبردستی مستقل آباد کرنے اور ان پر چینی انتظامی و سیاسی کنٹرول بڑھنے سے ان نسلی گروہوں کے لیے اپنی روایات، ثقافت اور زبان کو برقرار رکھنا کہیں زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ مزید برآں سرحد کے آرپار موجود محدود ثقافتی اور خاندانی روابط—جیسے مشرقی سیکٹر میں لائن آف ایکچول کنٹرول کے دونوں جانب آباد بعض نسلی گروہوں کے درمیان پائے جاتے ہیں—کو برقرار رکھنا بھی تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔
دوسرے سرحدی علاقوں میں چینی حکومت کی وفادار ہان آبادی میں اضافہ وہاں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کی بڑی نفری کی طویل المدت موجودگی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
تیسرے، جوں جوں لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب چینی آبادیاں بڑھتی جائیں گی وہاں کے باشندوں کے لیے ہندوستان کے ساتھ سرحدی تنازع کے کسی بھی ممکنہ تصفیے کے لیے درکار بڑی علاقائی رعایتیں قبول کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔ مثال کے طور پر، تبت خود مختار خطے میں تسونا کاؤنٹی کے صدر مقام کو تسونا ٹاؤن سے منتقل کر کے ماما مونپا ٹاؤن میں قائم کرنا—جو آبادی کے لحاظ سے صرف 167 افراد پر مشتمل ہے لیکن توانگ کے بالمقابل لائن آف ایکچول کنٹرول کے زیادہ قریب واقع ہے—اس بات کا اشارہ ہے کہ اس علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر اب زیادہ توجہ دی جائے گی اور توقع ہے کہ یہ مستقبل میں ایک بڑے شہری مرکز کی صورت اختیار کر لے گا۔
چوتھی بات یہ کہ چین کا سرحدی علاقوں میں شہری آبادی بڑھانے کی کوششوں کا مقصد صرف اندرونی انتظامی استحکام نہیں، بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی ترقی اور تجارتی روابط کو فروغ دینا بھی ہے۔ ہندوستان غالباً ایسے روابط کی مزاحمت کرے گا لیکن چین کے بعض دیگر ہمسایہ ممالک کا نسبتاً زیادہ جھکاؤ ہو سکتا ہے۔ مختلف چیلنجوں کے باوجود اکسائی چن کے ذریعے جنوبی شنچیانگ کو شہری مراکز میں تبدیل کرنے کی یہ حکمتِ عملی پاکستان کے زیرِ قبضہ ہندوستانی علاقے تک تجارتی راہداری برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ تمام اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ چین ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت سماجی استحکام، اپنے علاقائی دعووں کو مضبوط بنانے اور وسیع تر خارجہ پالیسی کے مقاصد کو باہم مربوط کر رہا ہے۔ اگرچہ ہندوستانی حکومت نے چین کے شیاوکانگ گاؤں کے منصوبے کے جواب میں اپنا وائبرنٹ ولیجز پروگرام شروع کیا ہے لیکن مقبوضہ ہندوستانی علاقے میں چین کی انتظامی تبدیلیوں پر محض بیانات دینا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے زیادہ مؤثر اور عملی ردِعمل کی ضرورت ہے۔جس طرح 2020 میں لائن آف ایکچول کنٹرول پر چین کی دراندازیاں دونوں ممالک کے باہمی معاہدوں کی خلاف ورزی تھیں اسی طرح چین کے حالیہ اقدامات بھی دو طرفہ معاہدوں سے متصادم ہیں۔ اس لیے نئی دہلی کو مقامی انتظامی، بین الاقوامی قانونی اور ذرائع ابلاغ کے محاذوں پر مؤثر جواب دینا ہوگا۔
This article was originally published in The Tribune as part of an arrangement with the Centre of Excellence for Himalayan Studies
Translated by Abu Zafar