ایران پر حملہ: چین کی حکمتِ عملی اور عالمی مضمرات

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ اور اس کے اب ایک طویل تنازع میں تبدیل ہو جانے کے امکان نے چین کے لیے جہاں کچھ مواقع پیدا کیے ہیں وہیں اس سے بعض خدشات بھی جنم دیے ہیں۔ اگر ہم مواقع کی بات کریں تو اولاََ چین کو اس سے یہ موقع ملا ہے کہ وہ امریکہ کو منفی انداز میں پیش کرے اور خود کو نسبتاً زیادہ دور اندیش اور معتدل طاقت کے طور پر ظاہر کرے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے پیپلز ڈیلی نے ایک اداریے میں کہا کہ امریکی "مذاکرات اختلافات کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں بلکہ سفارتی زبان میں ملفوف جنگی الٹی میٹم ہیں۔"اداریے میں چین کے ذریعہ "کشیدگی کم کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتے رہنے کے عزم" کا اظہار کیا گیا اور "بین الاقوامی تعلقات میں یک طرفہ دھونس اور طاقت کے استعمال کی دھمکیوں" کے خلاف خبردار کیا گیا ہے۔امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور"بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں" کی خلاف ورزی کو اجاگر کرنے کے بعد چین کو یقین ہوگا کہ اس کے نئے منصوبوں، جیسے گلوبل گورننس انیشی ایٹو، کو کچھ نہ کچھ پذیرائی اور زیادہ اعتبار حاصل ہوگا۔
دوسرے، چونکہ چین توانائی کا ایک بڑا درآمد کنندہ ملک ہے ، ایران اور عرب ممالک دونوں کا اہم تجارتی شراکت دار بھی ہے اور اس کے ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بھی ہے، اس لیے غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں صورت حال چاہے جیسی بھی ہو، چین کے اس پر اپنے اثرات ہوں گے اور اس کا اپنا موقف بھی ہوگا۔ تاہم اگر وہ چاہے تو اس ہنگامے سے دور رہنے یا خود کو اس سے الگ رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اسی طرح یہ تنازع جتنا طویل ہو گا اور اس سے دنیا کی جتنا زیادہ توجہ بٹتی رہے گی وہ چین کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا، کیوں کہ اس سے اسے اپنے پڑوس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے نمٹنے یا ان کا مقابلہ کرنے کا زیادہ موقع ملے گا، جو بیجنگ کی اولین ترجیح ہے۔ اگرچہ یہ بات قدرے سادہ لگتی ہے لیکن اس خیال میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہے کہ چین بظاہر اپنی توانائیاں محفوظ رکھتے ہوئے بھی اثر و رسوخ قائم رکھتا ہے، جب کہ امریکہ عالمی سطح پر حد سے بڑھی ہوئی مداخلت اور مختلف تنازعات میں الجھ کر خود کو کمزور کر لیتا ہے۔
پیچیدگیاں
تاہم، امریکی-اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیاں چین کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ اس کے عالمی توانائی کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم چین ممکنہ طور پر ان سے نمٹنے کے لیے دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہے، کیوں کہ اس کے پاس اسٹریٹجک ذخائر موجود ہیں اور اس کی مجموعی درآمدات میں وینزویلا اور ایران سے آنے والے تیل کا حصہ نسبتاً بہت کم رہا ہے۔
دوسرے، امریکی سفارت کاری اب اپنے متضاد طرزِ عمل کے باعث کچھ حد تک چینی سفارت کاری سے مشابہ دکھائی دینے لگی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے بظاہر ایران پر حملے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا تھا، حالانکہ اسی دوران جنیوا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق ممکنہ نئے معاہدے کے لیے امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت جاری تھی۔
امید ہے کہ اپریل کے اختتام پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں پہلی بار چین کا دورہ کریں گے۔ وہ حسبِ معمول توقعات کی ایک طویل فہرست کے ساتھ آئیں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ اپنے وعدوں میں کو کس حد تک نبھا پائیں گے۔ ابھی تک چین اپنے مذاکراتی شراکت داروں کی نیک نیتی سے فائدہ اٹھاتا رہا، مگراب ٹرمپ کی وجہ سے چین کو ایک برابر کے حریف کا سامنا ہے۔
تیسرے، اس کا اثر خود چین-ایران تعلقات پر بھی پڑے گا ۔ 2021 میں چین نے ایران کے ساتھ 25 سالہ اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت 400 ارب ڈالر تک بتائی گئی۔ اگرچہ اس سے چین کو رعایتی نرخوں پر تیل خریدنے کا موقع ملا، لیکن مغربی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں سرمایہ کاری محدود رہی ہے۔ اس کے برعکس، اگلے ہی سال شی جن پنگ کے ایران کے علاقائی حریف سعودی عرب کے دورے کے دوران—جو ریاض میں چین-خلیج اور چین-عرب سربراہ اجلاس کے سلسلے میں ہوا—توانائی، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کے 30 سے زائد معاہدے طے پائے، جس سے چین اور سعودی عرب کے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بھی فروغ ملا۔2024 میں چین اور سعودی عرب کے درمیان تجارت تقریباً 110 ارب ڈالر رہی، جو ایران کے ساتھ صرف 13 ارب ڈالر سے کچھ زائد تجارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
یہ معاشی حقیقت اس بات کی بھی وضاحت کرتی ہے کہ تنازع کے آغاز کے بعد سے ہی چین نے اپنے بیانات میں کیوں محتاط توازن برقرار رکھا ہے۔اگرچہ چین نے بیان دیا ہے کہ"امریکہ-اسرائیل کے حملوں کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل نہیں اور یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں"، لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے فوری طور پر یہ بھی کہا کہ "خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا بھی مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔"
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کی اپنے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کے اعلامیے میں بھی چین کی طرف سے اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ"ایران پڑوسی ممالک کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے لے گا اور ایران میں موجود چینی شہریوں اور اداروں کی سلامتی کو یقینی بنائے گا”، جب کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے ایرانی منصوبوں پر بھی تنقید سامنے آئی ہے۔یہ تمام عوامل تہران پر چینی دباؤ کی مختلف صورتیں ہیں۔ واضح رہے کہ کہ اس طرح کی بیان بازی اور 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں ثالثی کے باوجود چین عملاً ایرانی مؤقف کی مکمل حمایت نہیں کر رہا ہے۔مزید یہ کہ اگر تنازع بدستور جاری ہو یا اس کے بعد ایران ابھی سنبھل ہی رہا ہو اور ایسے میں ٹرمپ بیجنگ کا دورہ کریں، تو اس سے چین کی بین الاقوامی شبیہ مزید متاثر ہوسکتی ہے۔
تیسرے، ٹھوس سیکورٹی تناظر میں ایران کی فوجی ترقی، خصوصاً بیلسٹک میزائل پروگرام، کے لیے چین کی طویل حمایت اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان میں سے سینکڑوں میزائل خلیجی ممالک کی جانب داغے جا چکے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کے مقابل ایران کی حمایت کرنے کی چین کی خواہش کے خطے میں اس کے دیگر تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود، چین کے سیکورٹی مفادات کا تقاضا ہے کہ وہ امریکہ کے حریفوں کی حمایت کرے، لہٰذا ایران کے لیے فوجی معاونت مناسب وقت پر دوبارہ شروع ہو جائے گی یا اس میں اضافہ ہو جائے گا۔
امریکہ کو حریف سمجھنے کے چین کے واضح اور حقیقت پسندانہ ادراک نے مغربی ایشیا میں اس کی حکمتِ عملی کی سمت طے کی ہےاور اسے خطے کے متعدد تنازعات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں بیانات نے اسے عرب دنیا کی تائید دلائی، اور جب بھی ممکن ہوا ایران کی حمایت کر کے اس نے خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو محدود کرنے کے لیے حالات بھی سازگار بنائے۔دوسری طرف مغربی ایشیا میں ہندوستان کا مؤقف بظاہر امریکی طاقت کے روایتی اثر کو ترجیح دیتا ہے اور چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی و مادی اثر و رسوخ کو نظرانداز کرتا ہے۔ نئی دہلی نے اس تنازع میں گویا ایک فریق کا انتخاب کر لیا ہے۔ چاہے یہ فیصلہ داخلی سیاسی تقاضوں کے تحت کیا گیا ہو یا طویل المدتی فکر اور عمل کی کمی کے باعث، اس نے خود کو اپنے ہی خطے میں ایک ثانوی کردار تک محدود کر لیا ہے۔
☆جبین ٹی جیکب سینٹر فار ہمالین اسٹڈیز، شیو نادر انسٹی ٹیوشن آف ایمینینس، دہلی-این سی آر کے ڈائرکٹر ہیں اور
Original: Jabin T. Jacob. 2026. ‘چین کی حکمتِ عملی اور عالمی مضمرات’ (China's Strategy and Global Implications). Inquilab. 21 March.
Translated by Abu Zafar