
آبنائے ہرمز سے ہمالیہ تک: عالمگیریت کی زد میں لداخ کی سیاحتی معیشت
اپنی شہرۂ آفاق یادداشتوں کی کتاب Tibetan Caravans میں لداخ کے تجارتی قافلہ رہنما اور مصنف عبد الواحد رادھو نے چانگ تھانگ کے سطح مرتفع سے ہوتے ہوئے لہاسا کی جانب اپنے سفر کا ایک دلکش منظر بیان کیا ہے۔ چانگپا خانہ بدوشوں سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:
’’ان میں تقریباً سبھی بھیڑ کی کھال سے بنے کپڑے پہنتے ہیں۔ ان کی خوراک گوشت، مکھن والی چائے اور کبھی کبھار تسَمپا پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ روٹی سے ناواقف ہیں۔ وہ کمال کے چرواہے ہیں اور بلند ترین چوٹیوں تک چڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔۔ میں انہیں دیکھ رہا تھا کہ چند لڑکے اور چھوٹی بچیاں معصومیت کی تصویر بنے بڑے بڑے پتھروں کے آس پاس کنکریوں سے کھیل رہے تھے۔ بیرونی دنیا سے انہیں کوئی سروکار نہیں تھا سوائے اس سرد ہوا کے جو ان کے جسموں پر کوڑے برسا رہی تھی۔ انہیں کیسے معلوم ہو سکتا تھا کہ کہیں دوران ملکوں میں جنہیں مہذب کہا جاتا ہے ایک جنگ چھڑ چکی ہے؟‘‘
رادھو نے یہ سطور 1942 میں لکھی تھیں جب یورپ دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں تھا۔ پورے کے پورے براعظم جل رہے تھے، شہروں پر بم برسائے جا رہے تھے اور لاکھوں جانیں ضائع ہو رہی تھیں۔ اس کے باوجود لداخ کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں اور تبت کے سطح مرتفع پر زندگی خاموشی سے رواں دواں تھی۔ خانہ بدوش بچے پتھروں اور چراگاہوں کے درمیان کھیل رہے تھے اور اس تباہی سے بے خبر تھے جو ان سے ہزاروں کلومیٹر دور برپا تھی۔
رادھو کا یہ مشاہدہ محض ایک سفر کی روداد نہیں تھا بلکہ جدید تہذیب پر ایک گہرا مگر لطیف تنقیدی تبصرہ بھی تھا۔ خود کو فخر سے ’’مہذب‘‘ کہلانے والے علاقےانسانی تاریخ کی بعض انتہائی تباہ کن جنگیں برپا کر رہے تھے جب کہ دشوار گزار ماحول میں رہنے والی چرواہا برادریاں اپنی ہی دنیا میں مگن تھیں اور دور دراز کے تنازعات سے بڑی حد تک محفوظ تھیں۔رادھو کی جن چانگپا خانہ بدوشوں سے ملاقات ہوئی تھی ان کا طرز زندگی دنیا کے مشکل ترین طرزِ زندگی میں سے ایک ہے جو تیز ہواؤں سے گھِرے سطح مرتفع پر اپنے ریوڑوں کے ساتھ نقل مکانی کرتے رہتےتھے۔ تاہم ماحولیاتی دشواریوں کے باوجود ان کی زندگی فطرت اور کمیونٹی سے گہرا رشتہ رکھتی تھی۔ دور دراز براعظموں میں ہونے والی جنگوں سے نہ ان کی چراگاہیں متاثر ہوتی تھیں اور نہ روزمرہ زندگی کی رفتار میں کوئی خلل پڑتا تھا۔ جغرافیائی دوری اور تنہائی نے انہیں ایک طرح کا تحفظ فراہم کر رکھا تھا۔
رادھو نے جس دنیا کی منظرکشی کی تھی اس کا اب وجود باقی نہیں رہا۔ کبھی الگ تھلگ رہنے والا ہمالیائی خطہ لداخ آج عالمی معاشی نظام سے پوری طرح جڑ چکا ہے۔ سیاحت، ہوابازی، توانائی کی منڈیاں اور رسد کے عالمی سلسلے اب اس دور افتادہ خطے کو ہزاروں کلومیٹر دور رونما ہونے والے واقعات سے جوڑچکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عالمگیریت کے جن عوامل کی وجہ سے اس خطے میں خوش آئی انہیں کی وجہ سے یہ خطہ دور دراز کے بحرانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیر محفوظ بھی ہو گیا ہے۔
اگرچہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی جغرافیائی اعتبار سے ہمالیہ سے بہت دور ہے تاہم اس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ دنیا کی تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جس کے باعث یہ دنیا کے اہم ترین توانائی کی گزرگاہ میں شمار ہوتی ہے۔ اس تنگ سمندری گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی بے یقینی عالمی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں میں فوری اضافے کا باعث بنتی ہے۔
لداخ جیسے سیاحت پر انحصار کرنے والے علاقے میں ان تبدیلیوں کے اثرات تقریباً فوری طور پر محسوس ہوتے ہیں۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہوائی کرایوں اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کر دیتی ہیں جس سے دور افتادہ مقامات کا سفر واضح طور پر مہنگا ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ہوابازی کے ایندھن کی اوسط قیمت عالمی معیارات کے مطابق بڑھ کر 173.91 ڈالر فی بیرل ہو گئی جو رواں سال کے آغاز میں ریکارڈ کی گئی سطح سے تقریباً دوگنی ہے۔ ایئرلائنوں نے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مطابق پہلے ہی سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی شروع کر دی ہے۔ مثال کے طور پر ایئر انڈیا نے 12 مارچ سے شروع ہونے والی پروازوں میں ایندھن پراضافی چارج عائد کرنے کا اعلان کردیا ۔
لداخ کی سیاحتی صنعت کے لیے یہ پیش رفت خاص طور پر حساس وقت میں سامنے آئی ہے جب وہاں سیاحتی موسم ابھی شروع ہونے والا تھا۔ ہر سال اپریل میں جب وادی سندھ کے نشیبی علاقوں کے دیہات میں بہار کی پہلی نشانیاں نمودار ہوتی ہیں تو لداخ سیاحوں کے لیے بتدریج اپنے دروازے کھولتا ہے۔ اس سال 8 اپریل سے شروع ہونے والا خوبانی کے پھولوں کا میلہ سیاحتی موسم کے آغاز کی علامت ہے۔ لداخ کے معروف خوبانی پیدا کرنے والے علاقوں میں کارگل کے گارکون، دہ بیما اور کارکِچو، جب کہ لیہہ کے اسکوربوچن، تکماچک اور ترتک کے دیہات سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں تاکہ وہ خوبانی کے باغات میں کھلنے والے مختصر مگر شاندار پھولوں کا نظارہ کر سکیں۔ بہت سے مقامی ٹور آپریٹروں کے لیے یہ موسمی تقریب ابتدائی بہار کے سفری پروگراموں کا مرکزی حصہ ہوتی ہے، جنہیں اس تقریب کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دے کر تشہیر کی جاتی ہے۔
تاہم سیاحوں کی متوقع آمد سے کئی ہفتے پہلے ہی سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد میں تشویش پھیلنے لگی ہے۔ ہوٹل مالکان اور مقامی ٹور آپریٹرتشویش کے ساتھ عالمی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ لداخ کی سیاحتی معیشت انتہائی موسمی نوعیت کی ہے اور اس کا زیادہ تر انحصار پانچ سے چھ ماہ کے مختصر عرصے پر ہوتا ہے۔ سیاحتی موسم کے آغاز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پورے سال کے روزگار اور آمدنی کو متاثر کر سکتی ہے۔
اس صورتِ حال کو ایندھن اور کھانا پکانے کے بڑھتے ہوئے اخراجات مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ہندوستان کے مختلف شہروں میں کمرشل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں 7 مارچ سے تقریباً 114.5 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کا براہِ راست اثر لداخ کے ہوٹلوں، ریستورانوں اور ہوم اسٹیز پر پڑتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والی اطلاعات میں ایل پی جی کی رسد میں پہلے ہی خلل کی نشاندہی کی جا رہی ہے جب کہ بنگلورو اور چنئی کی ہوٹل ایسوسی ایشنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسی ہی صورتِ حال رہی تو مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ اداروں کو اپنی سرگرمیاں روکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ لداخ کے لیے یہ پیش رفت خاص طور پر تشویش ناک ہے کیوں کہ ایندھن اور کھانا پکانے کی گیس سمیت بیشتر ضروری اشیا طویل اور دشوار گزار پہاڑی شاہراہوں کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں جن پر نقل و حمل اور رسد کا انتظام خاصا مشکل ہوتا ہے۔
خطے کے بہت سے لوگوں کے لیے یہ خدشات ماضی کے ان بحرانوں کی یاد تازہ کرتے ہیں جنہوں نے لداخ کی سیاحتی معیشت کی کمزوری کو نمایاں کیا تھا۔ کورونا کی وبا کے دوران سفر اچانک رک گیا تھا۔ پروازیں معطل ہو گئیں، سرحدیں بند ہو گئیں اور لداخ کی سیاحتی صنعت تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو گئی۔ ہوٹل خالی پڑے رہے، ٹیکسیاں کھڑی رہیں اور سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کو گزر بسر کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
علاقائی عدم استحکام نے بھی یہ ظاہر کیا ہے کہ سیاحت کا شعبہ کس قدر غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ 2025 کے پہلگام واقعے کے نتیجے میں وسیع تر ہمالیائی خطے میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ مرکزی وزیرِ سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت کی جانب سے 9 نومبر 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار سے اس کے اثرات کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ لداخ میں ملکی سیاحوں کی آمد 2024 میں 2 لاکھ 92 ہزار سے کم ہو کر 2025 میں 2 لاکھ 12 ہزار رہ گئی، یعنی تقریباً 27.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ کارگل میں صورتِ حال اس سے بھی زیادہ سنگین رہی، جہاں سیاحوں کی آمد 3 لاکھ 20 ہزار سے ڈرامائی طور پر کم ہو کر صرف 93 ہزار 389 رہ گئی، جو تقریباً 70.9 فیصد کمی ہے۔ یہ کمی پہلگام حملے اور اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تقریباً تین ہفتے تک جاری رہنے والی فوجی کشیدگی کے بعد واقع ہوئی جس نے پورے خطے میں سفر کے حوالے سے لوگوں کے اعتماد کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔
یہ واقعات ایک گہرے تضاد کو اجاگر کرتے ہیں۔ عالمگیریت بلاشبہ لداخ کے لیے نئے مواقع لے کر آئی ہے۔ سیاحت نے لوگوں کے ذرائعِ معاش بہتر کیے، روزگار کے مواقع پیدا کیے اور اس خطے کو باقی دنیا سے جوڑ دیالیکن اس نے عدم تحفظ کی نئی صورتیں بھی پیدا کر دی ہیں۔ مغربی ایشیا میں ہونے والی جنگ، کسی دوسرے براعظم میں پھوٹنے والی وبا یا کسی ہمسایہ خطے میں پیش آنے والا سیکورٹی کا واقعہ اچانک اس دور افتادہ ہمالیائی معاشرے کی معاشی بنیادوں کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔
رادھو نے اپنے زمانے میں چانگ تھانگ کے پتھروں کے درمیان کھیلتے ہوئے جن بچوں کو دیکھا تھا وہ دور دراز براعظموں میں ہونے والی جنگوں سے بے نیاز تھے۔ جغرافیائی دوری نے انہیں بیرونی دنیا کے انتشار سے محفوظ رکھا تھا۔ آج یہ جغرافیائی تحفظ ختم ہو چکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ لداخ سے جغرافیائی طور پر اب بھی بہت دور ہونے والی ایک جنگ بھی اس کے دیہات میں بہار کے پہلے پھول کھلنے سے کئی ہفتے پہلے تشویش پیدا کر سکتی ہے۔ اکیسویں صدی کی باہم مربوط دنیا میں پہاڑ اب برادریوں کو دنیا بھر میں رونما ہونے والے بحرانوں کے اچانک اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں رہے۔
Originally Published in English as Fida Hussain Tangrhong. 2026. ‘From the Strait of Hormuz to the Himalayas: Globalisation and the Vulnerability of Ladakh’s Tourism Economy’. Commentary. Centre for Excellence for Himalayan Studies. 16 March.
Translated by Abu Zafar