میزورم میں میانمار سے بے دخل چِن افراد: مقامی یکجہتی بمقابلہ قومی سلامتی

22 August 2026  |  

Amrita Saikia
Borders and Identity
Geopolitics

 اپریل 2026 میں میانمار کے مسلح گروہ چِن نیشنل آرمی (Chin National Army) کی جانب سے جبری بھرتی کی کوشش کے نتیجے میں مزید 34 چِن باشندے نقل مکانی پر مجبور ہو کر ہندوستانی ریاست میزورم پہنچے، جس کی سرحد میانمار سے ملتی ہے۔ اگرچہ میانمار کے شہری کئی دہائیوں سے  ہندوستان  میں پناہ لیتے رہے ہیں لیکن 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد تقریباً 40 ہزار چِن باشندے میزورم میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس کے بعد سے میانمار کی ریاست چِن میں  وقفے وقفے سے ہونے والی نسلی جھڑپیں مزید افراد کو  ہندوستان  کے شمال مشرقی علاقے میں واقع میزورم کی جانب دھکیل رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے حالیہ تخمینوں کے مطابق اس وقت  ہندوستان  میں چِن باشندوں کی تعداد 86ہزار 200ہے۔

میانمار سے چِن باشندوں کی تنازع کے باعث ہونے والی جبری نقل مکانی نے بھارتی ریاست کے سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔چنانچہ 2021 میں  ہندوستان  کی وزارتِ داخلہ نے سرحدی ریاستوں—میزورم، منی پور، اروناچل پردیش اور ناگالینڈ—کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ ان ریاستوں میں پناہ لینے والے چِن باشندوں کو واپس بھیج دیں۔وزارتِ داخلہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ہندوستان 1951 کے مہاجرین کی حیثیت سے متعلق کنونشن یا اس کے 1967 کے پروٹوکال کا فریق نہیں ہے۔تاہم مقامی آبادی نے اس فیصلے کی مخالفت کی کیوں کہ وہ چِن باشندوں کو اپنا نسلی بھائی سمجھتی ہے۔ اس سے قبل 2024 میں وزارتِ داخلہ نے فری موومنٹ رجیم (FMR) کو معطل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ یہ  ہندوستان  اور میانمار کے درمیان ایک دوطرفہ انتظام تھا جس کے تحت 1643 کلومیٹر طویل سرحد کے دونوں جانب 16 کلومیٹر تک بغیر ویزا آمدورفت کی اجازت تھی۔  بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاستوں اروناچل پردیش اور منی پور نے سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جب کہ ناگالینڈ اور میزورم نے نسلی رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔

فروری 2024 میں میزورم کی ریاستی اسمبلی میں حکومتِ ہند کے  ہندوستان -میانمار سرحد پر باڑ لگانے کے فیصلے پر بحث ہوئی اور اس کی مخالفت میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔ اس قرارداد کی زو  ری یونیفیکیشن آرگنائزیشن (Zo Reunification Organization) نے بھی حمایت کی، جو میانمار،  ہندوستان  اور بنگلہ دیش میں آباد چِن، کوکی، میزو اور زومی قبائل کی نمائندگی کرتی ہے اور ان کے دوبارہ اتحاد کی حامی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں من مانے سرحدی تعین کے ذریعے ان قبائل کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا، اور بعد از نوآبادیاتی دور میں بھی یہ تقسیم مزید مضبوط ہوتی رہی۔  تاہم جغرافیائی سرحدیں سرحد کے دونوں جانب آباد قبائل کے باہمی روابط، حتیٰ کہ روزمرہ میل جول کو بھی محدود نہ کر سکیں۔ میانمار کے چِن باشندے تعلیم، علاج، تجارت اور باہمی شادیوں کے لیے مسلسل میزورم کے سرحدی علاقوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔

چنانچہ  ہندوستان -میانمار سرحد پر باڑ لگانے کی شدید مخالفت کی بنیادی وجہ میانمار کے چِن باشندوں اور میزورم کے میزو عوام کے درمیان مشترکہ نسلی اور تاریخی روابط ہیں۔ اگرچہ  ہندوستان کے نزدیک غیر قانونی نقل مکانی اور منشیات کی اسمگلنگ کے باعث  ہند -میانمار سرحد سلامتی کا ایک اہم مسئلہ ہے لیکن سرحد کے دونوں جانب آباد لوگوں کے لیے یہ سرحد مشترکہ تاریخ، ثقافت اور نسلی شناخت کا نقطۂ اتصال ہے۔ اسی لیے  جبری طور پر بے دخل ہونے والے چِن افراد کے ساتھ میزو معاشرے اور میزورم کی ریاستی حکومت کا ہمدردانہ رویہ، مرکزی حکومت کے سلامتی پر مبنی خدشات کے برعکس، تاریخی اور نسلی رشتوں میں پیوست ہے۔ یوں میزو عوام اور مرکزی حکومت کے درمیان بنیادی اختلاف سیکورٹی بمقابلہ نسلی شناخت (Security vs. Ethnicity) کا ہے۔

جولائی 2025 میں حکومتِ ہند نے میانمار سے آنے والے جبری طور پر بے دخل چِن اور بنگلہ دیش سے آنے والے جبری طور پر بے دخل کوکی-چِن کی شناخت اور اندراج کے لیے بایومیٹرک رجسٹریشن کا عمل شروع کیا۔ تاہم ناقدین نے اس اقدام سے متعلق ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی۔ پہلی تشویش یہ ہے کہ بایومیٹرک معلومات کی مدد سے ان چِن باشندوں کی شناخت ممکن ہے جنہوں نے میانمار کی فوجی حکومت (جنتا) کی مخالفت کی، سول نافرمانی کی تحریک میں حصہ لیا اور بعد ازاں میزورم میں پناہ لی۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی ملک بدری کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے بلکہ میانمار میں موجود ان کے اہلِ خانہ بھی فوجی حکومت کے انتقام کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب وسائل کی قلت کے باعث میزورم میں پہلے سے بڑھتے ہوئے مہاجر مخالف جذبات میں بھی اس اقدام سے مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو ابتدائی مرحلے میں مقامی آبادی کی جانب سے دکھائی گئی مہمان نوازی کے برعکس صورتِ حال کا عکاس ہے۔ اس کے باوجود مقامی برادری کے رہنماؤں کے تعاون سے میزورم میں تقریباً 97 فیصد بایومیٹرک رجسٹریشن مکمل ہو چکا ہے، حالانکہ ریاستی حکومت پہلے  اس کی مخالفت کر رہی تھی۔ بائیومیٹرک عمل کو تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ پہلے جبری طور پر بے دخل چِن جغرافیائی سرحدوں کے باعث ایک دوسرے سے جدا تھے لیکن میزبان ملک میں اب وہ غیر مرئی اور' روزمرہ کی سرحدوں' کا سامنا کر رہے ہیں، جو شہریوں اور غیر شہریوں کے درمیان تفریق قائم کرتی ہیں۔

چِن باشندے میانمار میں جاری تشدد سے بچنے کے لیے محفوظ پناہ کی تلاش میں  ہندوستان  کی ریاست میزورم منتقل ہوئے۔ تاہم کسی قانونی حق کے بغیر وہ  ہندوستان  میں ساختی تشدد (Structural Violence) کا شکار ہیں۔ مختلف تحقیقات کے مطابق میزورم میں مقیم جبری طور پر بے دخل چِن افراد کو مناسب امداد، معاشی مواقع، تعلیم، صحت کی سہولیات، نفسیاتی معاونت اور قانونی تحفظ تک خاطر خواہ رسائی حاصل نہیں ہے۔ چونکہ مرکز کی جانب سے میزورم کو ملنے والی امداد محدود ہے اس لیے ان افراد کی بنیادی مدد مقامی میزو برادری ہی کی جانب سے ہو رہی ہے۔ امداد نہ ملنے اور معاشی مواقع محدود ہونے کے باعث چِن افراد نے یومیہ اجرت پر مزدوری، گھریلو ملازمت یا چھوٹے کاروبار کا راستہ اختیار کیا ہے۔

اگرچہ ہندوستان 1951 کے کنونشن برائے مہاجرین کا فریق نہیں ہے، تاہم وہ ماضی میں مختلف مذہبی پس منظر رکھنے والے جبری طور پر بے دخل افراد کو پناہ دیتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں اس کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کا اظہار چِن اور روہنگیا مہاجرین کے ساتھ اس کے برتاؤ سے ہوتا ہے۔ مہاجرین کے تحفظ کے لیے ملکی سطح پر کسی جامع قانونی فریم ورک کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہندوستانی حکومت کا طرزِ عمل غیر منظم، وقتی اور غیر یکساں رہا ہے۔ 2025 میں یہ الزام بھی سامنے آیا کہ حکومت نے روہنگیا مہاجرین کو خفیہ طور پر ملک بدر کر کے سمندر میں چھوڑ دیا۔ تاہم حکومت نے ان الزامات کی تردید کی، جب کہ سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ ان دعوؤں کے حق میں خاطر خواہ شواہد موجود نہیں ہیں۔ دوسری جانب ناقدین نے  امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ، 2025 (Immigration and Foreigners Act, 2025) پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق یہ قانون مہاجرین سمیت بعض تارکینِ وطن گروہوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے بجائے قومی سلامتی کو ترجیح دی گئی ہے۔

اگر اس صورتِ حال کو انسانی ہمدردی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے دور افتادہ شمال مشرقی خطے کی ترقی اور بہتر علاقائی روابط کے لیے حکومت کی اختیار کردہ پالیسی ایک تضاد کی عکاس ہے۔ ایک طرف نئی دہلی ایکٹ ایسٹ پالیسی (Act East Policy) کے تحت ہمسایہ ممالک کو شمال مشرقی ہندوستان سے ملانے والے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے وہیں دوسری طرف اسی خطے اور وہاں سے ہندوستان کے دیگر علاقوں کی جانب آبادی کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحدوں پر باڑ لگا رہا ہے۔ اگرچہ ہندوستان کے ہمسایہ ممالک میں جاری بحران اس امر کے متقاضی ہیں کہ وہ انسانی بنیادوں پر روابط اور تعاون کو فروغ دے، لیکن عملی طور پر ہندوستان مصیبت زدہ لوگوں کی نقل مکانی روکنے کے لیے مضبوط رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ تاہم میزورم کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کے سرحدی علاقوں میں قومی سلامتی کے نام پر سرحد بندی کی سیاست ہمیشہ وہاں کے لوگوں کے درمیان موجود نسلی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتی اور نہ ہی ان رشتوں کو مکمل طور پر محدود کر سکتی ہے۔


Originally Published in English as Amrita Saikia. 2026. ‘Forcibly Displaced Chin from Myanmar in Mizoram: Local Solidarity versus National Security’.  Commentary. Centre for Excellence for Himalayan Studies. 11 May.

Translated by Abu Zafar