
امریکہ–اسرائیل–ایران جنگ سے چین نے کیا سیکھا؟
خلیجِ فارس میں امریکہ کی جنگوں نے پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے جدید جنگ، عسکری نظریے اور فوجی اصلاحات سے متعلق تصورات کی تشکیل میں مسلسل اہم کردار ادا کیا ہے۔1990-91 کی خلیجی جنگ نے بیجنگ کو عسکری امور میں برپا ہونے والے انقلاب سے روشناس کرایا اور اس پریہ حقیقت آشکار کی کہ اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ میں سوویت ہتھیاروں کی ریورس انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیا گیا اسلحہ فرسودہ ہو چکا ہے۔ ایک دہائی بعد عراق جنگ نے پیپلز لبریشن آرمی کو مشترکہ جنگ (Joint Warfare) اور مشترکہ عملیاتی کمانڈز (Joint Operational Commands) کی جانب لےجانے میں فیصلہ کن محرک ہوئی جس کے نتیجے میں-16 2015کی تھیٹر کمانڈ اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی اور چین کے اعلیٰ عسکری کمان کے ڈھانچے کی ازسرِ نو تشکیل کی گئی۔ اسی طرح امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا بھی بیجنگ میں باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے اہم عسکری اسباق کی روشنی میں فوجی ساخت، عملیاتی تصورات اور مجموعی عسکری حکمتِ عملی میں آئندہ کی جانے والی تبدیلیوں کی سمت متعین کی جا رہی ہے۔
اس تجزیے کا پہلا اہم نکتہ ایک وقت میں متعدد حملہ (Saturation Warfare) ہے جو اب جدید جنگ کا ایک بنیادی تصور بن چکا ہے۔ نسبتاً سست رفتار اور کم قیمت والے شاہد ڈرونز کے وسیع پیمانے پر استعمال نے ثابت کیا ہے کہ کم لاگت والے نظام بھی تھاڈ (THAAD) اور ایم آئی ایم-104 پیٹریاٹ (MIM-104 Patriot) جیسے مہنگے فضائی دفاعی نظاموں کو غیر مؤثر بنا سکتے ہیں۔ اس سے بیجنگ کے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ بڑی تعداد تکنیکی برتری کا توڑ بن سکتی ہے اور ڈرون کو بھی گولہ بارود کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کثیر سطحی فضائی دفاعی نظام مثلاً آئرن ڈوم اور آئرن بیم کی بھی سیچوریشن حملوں کے سامنے ایک مرحلے کے بعد کارکردگی برقرار نہیں رہ پاتی جس کے نتیجے میں میزائل اور ڈرون بار بار ان کا دفاعی حصار توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ میزائلوں میں کلسٹر گولہ بارود (Cluster Munitions) شامل کیے جانے سے دفاع کرنے والوں کو کم لاگت والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر مالیت کے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں جس سے فضائی دفاعی نظاموں کی کارکردگی اور دیرپا دفاعی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ پی ایل اے نے امریکی جنگی ذخائر کے تیزی سے ختم ہونے اور انہیں فوری طور پر دوبارہ تیار کرنے کے لیے مطلوب صنعتی صلاحیت کے فقدان کو ایک سنگین کمزوری کے طور پر دیکھا ہے۔ مثال کے طور پر صرف 12 دن کے دوران آر آئی ایم-161 اسٹینڈرڈ میزائل-3 (RIM-161 Standard Missile 3) کے تقریباً 80 انٹرسیپٹر استعمال ہوئے، جو تقریباً ایک سال کی پیداوار کے برابر ہیں۔
اگر نسبتاً محدود پیداواری صلاحیت رکھنے والا ایران بھی امریکی انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہا ہے تو چین کی وسیع صنعتی بنیاد، ہنگامی حالات میں تیزی سے پیداوار بڑھانے کی صلاحیت اور سیچوریشن حکمتِ عملی کا امتزاج کسی بھی حریف کے لیے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات واضح ہیں یعنی پیداواری خود انحصاری، سپلائی چَین کے تمام مراحل پر مکمل کنٹرول اور ضرورت پڑنے پر پیداوار میں فوری اضافہ کرنے کی صلاحیت کسی بھی فوجی تصادم کے رخ اور اسے طویل عرصے تک جاری رکھنے کی صلاحیت کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اس بحث کا دوسرا اہم موضوع چین اور عالمی معیشت کے لیے سمندری گزرگاہوں (Maritime Chokepoints) کی غیر محفوظ حیثیت ہے۔ چینی تجزیوں میں اس کیفیت کو "تزویراتی گھٹن" (Strategic Suffocation) کہا جاتا ہے یعنی یہ خطرہ کہ توانائی کی رسد، تجارت اور بحری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہونے سے درآمدات پر انحصار کرنے والی چینی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں دو سمندری گزرگاہیں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں یعنی آبنائے ہرمز اور آبنائے ملاکا۔ اگرچہ بیجنگ توانائی کی درآمد کے ذرائع اور تجارتی راستوں کو متنوع بنا سکتا ہے اور روس و وسطی ایشیا سے زمینی پائپ لائنوں کے ذریعے توانائی کی فراہمی میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن سمندری گزرگاہوں کا مسلسل غیر محفوظ رہنا ایک دیرپا تزویراتی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ پی ایل اے کی بحریہ اپنے عسکری نظریے میں تبدیلی لاتے ہوئے ساحل کے قریب دفاع (Near-Seas Defence) پر ضرورت سے زیادہ انحصار ترک کر کے دور دراز سمندری علاقوں کے تحفظ (Far-Seas Protection) کو ترجیح دے۔ سمندروں پر کنٹرول کی فطری طور پر تغیر پذیر نوعیت کو چانگ وین مو (Zhang Wenmu) نے بجا طور پر "دوسروں کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی نلکی سے پانی پینے" سے تشبیہ دی ہے۔ لہذا چین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دور دراز سمندری علاقوں تک اپنی بحری طاقت کی تعیناتی اور مؤثر استعمال کرنے کی صلاحیت (Naval Power Projection) کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے۔ اس تناظر میں بحری حملہ آور صلاحیتوں خصوصاً طیارہ بردار جہازوں اور جوہری آبدوزوں کو مضبوط بنانا نیز جبوتی اور گوادر میں گہرے سمندر میں بحری اڈے قائم رکھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ، طویل مدت تک توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
چینی عسکری مباحث میں تیسرا اہم موضوع انٹیلی جنس ہے۔ اعلیٰ سطح کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے درست، بروقت اور قابلِ عمل انٹیلی جنس کی فیصلہ کن اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو ہے۔ بیجنگ کے نزدیک ایرانی قیادت کے اندر گہری دراندازی اس کامیابی کا بنیادی سبب تھی۔ اسی لیے پیپلز لبریشن آرمی ڈیلی نے خبردار کیا ہے کہ اندرونی کمزوریاں اور تخریب کاری سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں چین خصوصاً پی ایل اے میں بدعنوانی کے خلاف مہم اور سیاسی سطح پر "مطلق وفاداری" کو فروغ دینے کی مہم کو مزید تقویت ملی ہے۔
تکنیکی انٹیلی جنس خصوصاً خلائی انٹیلی جنس کی صلاحیتیں بھی ایک نہایت اہم عنصر بن کر ابھری ہے۔ چیلن-1 (Jilin-1) اور پیئی تو-3 (BeiDou-3) جیسے چینی نظام مسلسل تصویری معلومات، محفوظ مواصلاتی رابطہ اور فوری ڈیٹا کی ترسیل کی سہولت فراہم کرتے ہیں جن سے جنگی کارروائیوں میں فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ کثیر الطیفی (Multi-Spectral) اور مسلسل دستیاب انٹیلی جنس میدانِ جنگ کی غیر یقینی صورتِ حال کو بتدریج ختم کر رہےہیں جس کے نتیجے میں ایسا شفاف میدانِ جنگ وجود میں آ رہا ہے جہاں دشمن کی نقل و حرکت اور فوجی سرگرمیوں کو چھپانا پہلے کی نسبت بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے ایرانی محاذ سے حاصل ہونے والے عملیاتی ڈیٹا کی مدد سے اپنے پیئی تو-3 نظام کو اس انداز سے پروگرام کیا ہے کہ وہ ایف-35 اور تزویراتی بمبار طیاروں جیسے جدید عسکری پلیٹ فارموں کی شناخت اور درجہ بندی کی بہتر صلاحیت حاصل کر سکے۔
ان پیش رفتوں نے فیصلہ سازی کے دورانیے کو مختصر اور ہدف کی نشاندہی، تعاقب، نشانہ بنانے اور اسے تباہ کرنے تک کے عملیاتی سلسلے) (Kill Chainکو مزید تیز کر دیا ہے جس کے نتیجے میں راڈار سے اوجھل رہنے والی ٹیکنالوجی والے (Stealth) لڑاکا طیاروں، طیارہ بردار بحری بیڑوں سمیت متحرک اور انتہائی اہم اہداف کو نہایت درستگی کے ساتھ نشانہ بنانا ممکن ہو گیا ہے۔ پی ایل اے کے لیے اس سے حاصل ہونے والا سبق واضح ہے کہ مستقبل کی اعلیٰ ٹیکنالوجی پر مبنی جنگ میں مختلف میدانوں میں انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کا باہمی انضمام ناگزیر ہوگا جب کہ الیکٹرانک خودمختاری اور جامنگ (Jamming) کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن اہمیت اختیار کرے گی۔
چوتھا اہم مشاہدہ یہ ہے کہ شدید نوعیت کی جنگ فوجی تیاری کو بہت تیزی سے متاثر کر تی ہے۔ اس تنازع کے آغاز میں امریکی جنگی طیاروں کی دستیابی 85 فیصد سے زیادہ تھی لیکن دوسرے ہفتے کے بعد پرزوں کی کمی پوری کرنے کے لیے ایک طیارے کے پرزے دوسرے طیارے میں استعمال کرنے (Cannibalisation) اور عملے کی تھکن کے باعث جنگی پروازوں کی رفتار میں نمایاں کمی آ گئی۔ تیز رفتار جنگی سرگرمیوں نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جیسے اگلے محاذ پر تعینات بحری پلیٹ فارموں کی عملی استعداد کو بھی تیزی سے متاثر کیا جب کہ رسد سے متعلق مشکلات کے باعث امریکہ کو جنوبی کوریا سے اپنے اہم فضائی دفاعی وسائل بھی منتقل کرنا پڑا۔ بیجنگ کے نزدیک امریکہ کی بیک وقت دو بڑی جنگیں لڑنے کی صلاحیت اب بھی غیر یقینی کا شکارہے۔
پانچواں اہم سبق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں الیکٹرانک جنگ اور گہرے زیرِ زمین کمانڈ و کنٹرول نظاموں کی فیصلہ کن اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ امریکی بنکر شکن حملوں کے باوجود ایران کی اہم عسکری صلاحیتیں محفوظ رہیں جس کی وجہ مضبوط زیرِ زمین تنصیبات اور حملہ کر کے فوراً مقام تبدیل کر لینے کی حکمتِ عملی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ دفاعی انتظامات میں گہرائی، متبادل نظام (Redundancy)، دشمن سے پوشیدگی (Concealment) اور زیرِ زمین بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔
آخری نکتہ یہ ہے کہ پی ایل اے کے لیے ایک اور اہم سبق جنگ کا افقی پھیلاؤ (Horizontal Escalation) ہے۔ بیجنگ امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے اتحادی ممالک کے لیے ایسے حالات پیدا کر سکتا ہے کہ انہیں اس میزبانی کے خطرات، اتحادی تعلقات کے فوائد سے زیادہ محسوس ہونے لگیں۔ فلپائن کے لوزون اور جاپان کے اوکیناوا جیسے مقامات پر قائم امریکی اگلے محاذ کے فوجی اڈے خاص طور پر غیر محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں، جس کے باعث وہ کسی بھی بڑے تصادم میں جنگ کا دائرۂ کار وسیع کرنے کی حکمتِ عملی کے مرکزی اہداف بن سکتے ہیں۔ مزید برآں خطے کی اہم سمندری گزرگاہوں اور تنگ بحری راستوں کو خطرے میں ڈال کر چین امریکی اتحادیوں پر براہِ راست معاشی دباؤ ڈال سکتا ہے اور انہیں کسی جنگ میں شامل ہونے سے باز رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
ایران کے تنازع سے حاصل ہونے والے ان اسباق سے ہٹ کر اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ پی ایل اے ان مشاہدات کو کس حد تک عملی عسکری صلاحیت میں ڈھالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ یہ امر نہ صرف امریکہ اور چین کے درمیان کسی ممکنہ تصادم میں فیصلہ کن ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا سمیت دیگر محاذوں پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
This article was originally published in The Tribune as part of an arrangement with the Centre of Excellence for Himalayan Studies
Translated by Abu Zafar