
چینی سی سی ٹی وی پر پابندی اور ہندوستان میں سی سی ٹی وی نظام کی بدلتی صورتِ حال
مارچ میں یہ الزام سامنے آیا کہ چین میں تیار کردہ شمسی توانائی سے چلنے والے کم قیمت ای کامرس پلیٹ فارموں پر آسانی سے دستیاب اور 4G موبائل ٹیکنالوجی کی بدولت خود مختار طور پر کام کرنے والے سی سی ٹی وی کیمرے شمالی ہندوستان میں پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ذریعہ جاسوسی سرگرمیوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ ہندوستان نے یکم اپریل سے نگرانی کے آلات سے متعلق اپنے ضوابط میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے چینی کمپنیوں پر ملک میں کلوزڈ سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) نظام فروخت کرنے پر پابندی عائد کر دی۔ نئے قوانین کے تحت ہندوستان میں فروخت ہونے کے لیے نیٹ ورک سے منسلک ہر ایک سی سی ٹی وی کو وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت قائم اسٹینڈرڈائزیشن ٹیسٹنگ اینڈ کوالٹی سرٹیفیکیشن (STQC) کے مقرر کردہ سخت سرٹیفکیشن معیارات پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔ ایس ٹی کیو سی کا یہ فریم ورک اس بات کی جانچ کے لیے بنایا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی نظام ہندوستانی حکومت کی سلامتی اور تکنیکی ضروریات سے ہم آہنگ ہوں اور اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ کیمرے محفوظ، قابلِ اعتماد اور ہیکنگ یا غلط استعمال کے خطرے سے محفوظ ہیں۔ ایس ٹی کیو سی کا یہ نظام اور تبدیل شدہ قوانین مارچ 2024 میں وزارتِ الیکٹرانکس کے جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن،جسے بعد میں وزارتِ داخلہ کے حکم کے ذریعے نافذ کیا گیا،پر مبنی ہیں، جن کے مطابق چِپ سیٹ سمیت تمام اہم پرزوں کے بنانے والے ملک کی تفصیلات فراہم کرنا اور ایسے تمام آلات کا لازمی حفاظتی معائنہ کرانا ضروری ہے تاکہ ان میں موجود ایسی کمیوں کی نشاندہی کی جا سکے جو ریموٹ کے ذریعہ غیر قانونی رسائی کا سبب بن سکتی ہوں۔
سی سی ٹی وی کا شعبہ: دو چینی کمپنیوں کی اجارہ داری
چینی کمپنی ہک وژن (Hikvision) اور داہوا ٹیکنالوجی (Dahua Technology) عالمی سی سی ٹی وی صنعت میں عملاً دو اجارہ دار کمپنیوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس لیے حالیہ پابندیوں سے سب سے زیادہ یہی متاثر ہوئی ہیں، کیوں کہ ان کے آلات رہائشی عمارتوں، خوردہ تجارت، ہوٹلوں اور مہمان نوازی کے شعبے، بینکاری، عوامی بنیادی ڈھانچے، تعلیمی اداروں اور سرکاری اداروں سمیت متعدد شعبوں کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ روزمرہ زندگی میں نگرانی کے عمل کا معمول بن جانا، بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اداروں میں اس کا بڑھتا ہوا استعمال، ان چینی کمپنیوں کی شہرت اور عالمی رسائی میں مسلسل اضافے کا سبب بنا ہے۔ مزید برآں روزمرہ استعمال کی اشیا میں سینسر، سافٹ ویئر اور دیگر ٹیکنالوجی کی شمولیت، جو انہیں ایک دوسرے سے منسلک ہو کر معلومات کے تبادلے کے قابل بناتی ہے اور جسے انٹرنیٹ آف تھنگ (Internet of Things) کہا جاتا ہے، نے نگرانی کے اس پورے نظام کو مزید فروغ دیا ہے، جس سے چینی کمپنیوں کی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ہک وژن اور داہوا دونوں کمپنیاں 2001 میں قائم ہوئیں۔ ہک وژن کی بانی ٹیم میں زیادہ تر انجینئر چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ کارپوریشن (CETC) سے تعلق رکھتے تھے، جو چین کا ایک سرکاری ادارہ ہے ۔یہ ادارہ شہری اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے الیکٹرانک مصنوعات تیار کرتا ہے۔ 2008 میں ہک وژن نے اپنے 48 فیصد حصص سی ای ٹی سی کو منتقل کر دیے جس کے نتیجے میں سی ای ٹی سی آج اکثریتی شیئر ہولڈر ہے۔ہک وژن اور داہوا دونوں چینی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی نظام سے گہرے طور پر منسلک ہیں۔اور شارپ آئیز (Sharp Eyes / Xueliang Gongcheng) اور اسکائی نیٹ (Skynet / Tianwang Gongcheng) جیسے قومی سطح کے پولیس اور نگرانی کے منصوبوں میں شریک رہی ہیں۔ بعد ازاں ان دونوں کمپنیوں نے چین کے اندر رائج یہ طریقۂ کار بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعہ دوسرے ممالک میں بھی منتقل کیا جس کے نتیجے میں ریاستوں کی جانب سے اپنے شہریوں کی نگرانی کو معمول بنانے میں مدد ملی۔
قومی سلامتی اور مقامی صنعت کا فروغ: کہانی کے دو رخ
اگرچہ نئے قوانین کا اطلاق ماضی میں نصب کیے گئے آلات پر نہیں ہوتا تاہم ہندوستان کی بعض انتظامی اکائیاں اور سرکاری ایجنسیوں نے چینی کمپنیوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کی جگہ ہندوستانی اور دیگر غیر ملکی، خصوصاً جرمنی، تائیوان اور امریکہ کی کمپنیوں کے کیمرے نصب کرنا شروع کر دیا ہے۔ نمایاں مثالوں میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی جانب سے ٹول پلازوں پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو ہٹانا اور پوری دہلی میں مرحلہ وار ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد کیمروں کی تبدیلی شامل ہے۔ اگرچہ مؤخر الذکر اقدام پر دہلی کی موجودہ اور سابق حکومت کے درمیان سیاسی الزام تراشی بھی دیکھنے میں آئی لیکن ہک وژن کے ایک بڑے سپلائر کے طور پر ابھرنے کی بنیادی وجہ کم قیمت پر بڑی تعداد میں آلات فراہم کرنے کی صلاحیت تھی۔ یہ کمپنی ہندوستان کے سرکاری دفاعی ادارے بھارت الیکٹرانکس کی منظور شدہ سپلائر کی فہرست میں بھی شامل رہی ہے۔
ہندوستان میں چینی ساختہ سی سی ٹی وی کی تنصیب ہمیشہ سے قومی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا باعث رہی ہے اور 2020 میں مشرقی لداخ کے تنازع کے بعد یہ خدشات مزید شدت اختیار کر گئے۔ مارچ کے واقعے میں چین کے ممکنہ کردار اور آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی حمایت میں بیجنگ کے مؤقف نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ تاہم ایسے خدشات صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہیں۔ آسٹریلیا اور برطانیہ اپنی قومی دفاعی تنصیبات سے چینی سی سی ٹی وی نظام ہٹا چکے ہیں جب کہ کینیڈا اور امریکہ نے شنچیانگ میں ایغور اقلیت کے خلاف ہونے والے مظالم کے لیے نگرانی کا بنیادی اسٹرکچر فراہم کرنے کے الزام میں ان کمپنیوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
تاہم ہندوستان کے نئے سرٹیفکیشن قوانین کو صرف قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھنا پوری تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دراصل وزارت داخلہ کے حکم نامے میں سرکاری ٹینڈروں میں ہندوستانی سپلائروں کو ترجیح دی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعات کی تیاری ہندوستان میں ہو اور قابلِ اعتماد اور ضابطوں کے مطابق کام کرنے والی سپلائی چینز کے ذریعے ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ پیداواری عمل انجام دیا جائے۔گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہی CP Plus، Qubo، Matrix اور Sparsh جیسی ہندوستانی کمپنیوں نے مقامی نوعیت کے فرم ویئر اور تائیوانی چِپ سیٹس کے ذریعے سپلائی چینز کو ازسرِ نو ترتیب دے کر اپنی فروخت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ نتیجتاً 2025 تک ہندوستانی کمپنیوں کا ہندوستانی سی سی ٹی وی مارکیٹ کے 80 فیصد حصے پر قبضہ ہوگیا۔ CP Plus جیسی کمپنیوں نے تحقیق و ترقی، مینوفیکچرنگ اور سپلائی چینز میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے اور شہری سلامتی کے منصوبوں میں مختلف حکومتوں کے ساتھ شراکت داری بھی کی ہے۔
ہندوستانی سی سی ٹی وی کمپنیوں کی بڑے پیمانے پر وسعت اختیار کرنے کی صلاحیت دراصل ہندوستانی حکومت کے آتم نربھرتا (خود کفیل ہونے) کے بیانیے کی ایک کامیاب مثال ہے۔ دیگر صنعتی شعبوں کے برعکس، جہاں چین پر انحصار نمایاں ہے، سی سی ٹی وی کا شعبہ نسبتاً کم یا درمیانے درجے کی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے اور اس میں تکنیکی پیچیدگی بھی کم ہے۔ سیمی کنڈکٹر فیکٹریوں کے برعکس، جن کے لیے بھاری سرمایہ اور اعلیٰ تکنیکی مہارت درکار ہوتی ہے، یا شمسی ویفرز ، جو خام مال اور ابتدائی پیداواری مراحل میں شدید بیرونی انحصار کے متقاضی ہیں، ہندوستانی کمپنیوں نے اپنے سافٹ ویئر کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال لیا ہےاور چِپ سیٹس کو تائیوان اور دیگر غیر ملکی ذرائع سے حاصل شدہ چِپ سیٹس سے تبدیل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ سرکاری شعبے سمیت سی سی ٹی وی کیمروں کی وسیع اور یقینی طلب، آلات کی تبدیلی پر نسبتاً کم لاگت اور صارفین کا برانڈ کی شہرت سے زیادہ متاثر نہ ہونا جیسے عوامل نے ہندوستانی کمپنیوں کے لیے راہ ہموار کی ۔
چینی کمپنیوں پر نئی دہلی کی پابندیاں اور ہندوستانی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی چین کی گریٹ فائر وال سے متعلق حکمتِ عملی کی یاد دلاتی ہیں۔ اگرچہ گریٹ فائر وال انٹرنیٹ پر معلومات کی ترسیل کو محدود کرنے اور مغربی کمپنیوں کی رسائی روکنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن چینی انٹرنیٹ پلیٹ فارموں کی ترقی اور فروغ کے لیے بھی اسی نے سازگار حالات پیدا کیے۔ اس معاملے میں سلامتی کے خدشات اور مقامی کمپنیوں کو مضبوط بنانے کے درمیان جو ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے وہ خاصی منفرد ہے اور اس کا انحصار متعلقہ شعبے کی ٹیکنالوجی کی سطح اور اس کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کی صلاحیت پر ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ چین پر انحصار کم کرنا (De-coupling) ایک تدریجی عمل ہے جس کی نوعیت ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں مختلف ہوتی ہے۔
Originally Published in English as Anand P Krishnan. 2026. ‘Blocking with One Hand, Incentivizing with the Other: Shifting Sands in CCTV Ecosystem in India’. Commentary. Centre for Excellence for Himalayan Studies. 06 May.
Translated by Abu Zafar